محترم محمد یونس عزیز صاحب ناظم “کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس” نے کانفرنس کی روداد قلم بند کی یے۔ آپ سب کی خدمت میں ان کے شکریہ کے ساتھ پیش کر رہا یوں۔

پاکستان قومی زبان تحریک کی

’’کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس‘‘
پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر نفاذ اردو کے حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلہ کے دو سال مکمل ہونے پر ’’پاکستان قومی زبان تحریک‘‘ کی جانب سے ملک بھر میں ’’یوم قومی زبان‘‘ منا یا گ۔ اس حوالے سے الحمراء ہال نمبر ۲ میں 8 ستمبر کو ’’کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس‘‘ کے عنوان سے ایک مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے کی جبکہ شمشاد احمد خان سابق سفیر اور سیکرٹری خا رجہ ، اوریا مقبول جان محقق و دانشور ، جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال دانشور و قانون دان ، ڈاکٹر فا طمہ حسن سر بر اہ انجمن ترقی اردو کراچی، ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سر براہ اردو سائنس بورڈ، صاحبزادہ سلطان احمد علی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سکندر جاوید، وائس ایڈمرل (ر) جاوید اقبال اور جناب ذوالقرنین جمیل مہمانان خصوصی و اعزاز کی حیثیت میں مدعو تھے۔
پروفیسر سلیم ہاشمی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔ تقریب کا آغاز قرآت میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے قاری احمد ہاشمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعدریحان الحسن نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔بعد ازاں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ عبد الماجد چشتی نے کلام اقبال کے درج ذیل اشعار سے حاضرین کو مستفید کیا۔
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
تیری زندگی اسی سے تیری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی
بعد ازاں پاکستان قومی زبان تحریک کے قیام، مقاصد اور اس کی اب تک کی کارکردگی اور سفر کی رپورٹ کمپیوٹر کے ذریعے اعلاء سلوشن(آئی ٹی ) کے ڈائریکٹر اعلی عامر محمود یونس نے سلائیڈز کی صورت میں حاضرین کے سامنے پیش کی۔ پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان قومی زبان نے قومی زبان کے نفاذ کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور اس کے ملک بھر میں نفاذ کرنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آج قومی زبان کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک ترقی میں تمام دیگر ممالک کے مقابلے میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا اور پاکستان قومی زبان تحریک کے کارکنان کی کارکردگی کو سراہا۔
نوجوانوں کے نمائندے غلام عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک عرصہ سے صدا بلند ہو رہی ہے کہ ہمیں اپنی زبان اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دئیے جائیں لیکن اس کے باوجود طلباء کو زبردستی انگریزی زبان کی غلامی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معروف سائنسدان انجینئر محمد بشیرنے کہا ہے کہ ہماری قوم کو اس کی زبان میں اظہار و بیان کے مواقع دئیے جائیں۔ الحمراء ہال کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر) عطاء محمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اردو کا نفاذ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایک لشکری زبان ہے اور اس میں اصطلاحات کی گنجائش ہے لہذا ہمیں اردو کو بتدریج نافذ کرنے میں تاخیر نہیں کرنا چاہیے۔
اوریا مقبول جان نے بتایا کہ اردو کے نفاذ کے سلسلے میں ہم میں لوگ منافق ہیں کیونکہ آزادی کے دن (یعنی ستر سال ) سے ہم یہی سنتے چلے آ رہے ہیں کہ اردو کو بتدریج نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ستر سال گزر جانے کے باوجوود ہم اردو کا نفاذ نہیں کر سکے اور ہر شخص اردو کے نفاذ کو بتدریج لانے کے مشورے دے رہا ہے۔ اگرآج اردو کو نافذ کرنے کا حکمنامہ جاری ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ملک کے تمام ادارے کل سے اردو نافذ کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم اور میڈیا آپ کے ماحول کو بناتی ہیں اور آپ انہیں جس ماحول میں ڈھالیں گے تمام قوم اسی ماحول میں ڈھل جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ایران میں فارسی زبان لازمی ہے اوروہاں کا ایک نوجوان آج نوبل انعام کے لئے نامزد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس نے اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں ترقی کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اردو زبان کا نفاذ نہ کر کے اپنے آئین کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں اور ہماری قوم پر زبردستی انگریزی زبان کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ آپ اردو پڑھائیں گے تو لوگ عربی بھی سیکھ جائیں گے کیونکہ اردو میں اکثر الفاظ عربی کے بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن ڈائریکٹر انجمن ترقی اردو نے کہا کہ ہم اردو کا نفاذ نہ کرکے اپنے وطن کے آئین کے ساتھ بھی غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جو لوگ اردو کا نفاذ نہیں چاہتے انہوں نے قوم کو غلام بنا رکھا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ قوم ترقی کرے۔ وہ قوم کو صرف اپنا غلام ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زبان کو متنازعہ بنا کر آدھا ملک گنوا دیا ہے اور باقی ملک کو بھی ترقی سے محروم کرنے اور اس کے مزید حصے بخرے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگلش میڈیم اسکولوں میں زبردستی انگریزی کو نافذ کیا جا رہا اور وہاں پر قومی زبان میں بات چیت کی قطعا ممانعت ہے۔ آپ بڑے بڑے اسکولوں کے مالکان کو دیکھیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریزوں سے جاگیریں حاصل کی ہیں اور قوم کو غلام در غلام بنانے پر مصر ہیں۔ یہی لوگ قومی زبان کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی اردو زبان کی خدمات کے سلسلے بتایا کہ اردو کے تحفظ کے لئے جو کوشش آپ کر رہے ہیں ان کے لئے مسلمانوں کی آئندہ نسلیں آپ کی شکر گزار ہوں گی اور آج بھی یہ بات اتنی ہے اہم ہے جتنی اس وقت اتنی اہم تھی۔
صدر شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک فاطمہ قمر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک قومی زبان کے نفاذ کے لئے مسلسل کوشاں ہے اور ہمارے پروگراموں میں قوم کے تمام طبقات کے افراد جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اور ہر فرد کی خواہش ہے کہ قومی زبان کے نفاذ کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے اور وہ اس آئینی مقصد اور ضرورت کے لئے ہر طرح سے قومی زبان تحریک کے ساتھ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت ستائیس کے قریب نظام تعلیم کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قوم ستائیس طبقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔ ڈاکٹر راحیلہ قاضی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں اردو زبان کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور وہاں ہر قسم کی مراسلت اردو زبان میں ہی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام لوگ مل جل کر قومی زبان کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں۔ جسٹس (ر) ڈاکٹر ناصرہ جاوید نے کہا کہ اردو زبان میں اختصار کا لفظ ہے اور وہ اسی لفظ کے مفہوم کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار اختصار سے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اردو نستعلیق میں استعمال کریں ۔ اس میں کئی دیگر زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اپنی زبان میں اپنا مطالبہ پیش کرنا چاہے تو اس سلسلے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لہذا ہمیں اردو ہی کو اختیار کرنا چاہیے۔ ہم ہر سطح پر اردو کا نفاذ کر کے ہی سرخرو ہو سکتے ہیں۔شمشاد احمد خان سابق سفیر اور سیکرٹری وزارت خارجہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ریٹائر ہو کر گھر پہنچے تو دو فیصلے کئے اول یہ کہ اب میں نوکری نہیں کروں گا اور اپنا وقت اپنے لوگوں کے ساتھ گزاروں گا اور ان سے بات کروں گا تو صرف اردو زبان میں ہی کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس ملک میں بھی گئے وہاں کے باشندوں کو ان کی اپنی زبان میں ہی بات کرتے دیکھا ، وہ لوگ اپنے سرکاری دفاتر میں بھی اپنے ہی ملک کی زبان میں بات کرتے تھے اور وہاں کا عملہ میرے لئے انگریزی زبان میں ترجمہ کر دیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک سو ترانوے کے قریب ملک ہیں۔ ہر ایک ملک کی زبان اس قوم کی شناخت اور علامت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کا پرچم، ترانہ اور قومی زبان ہے مگر ہم نے ملکی آئین میں اپنی مرضی کر ترامیم کر لی ہیں اور ان ترامیم میں قومی مفاد کی بجائے اپنے مفادات کو سامنے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قوانین کی پابندی نہیں کرتے جو کہ قوم کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ہمارے ہاں اردو تب نافذ ہو گی جب ہمارے حکمران اہم قومی اور بین الاقومی مواقع پر صرف اور صرف اپنی قومی زبان میں گفتگو کریں گے۔ صاحبزادہ سلطان احمد نے جسٹس جواد ایس خواجہ کو اردو زبان کے نفاذ کے حوالے سے خراج تحسین پیش کیا اور صدر پاکستان قومی زبان عزیز ظفر آزاد کو اردو کے نفاذ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں اگر کسی بھی کسی قسم کا حکمنامہ ملے تو وہ مجھے اپنی زبان میں ملے۔
اردو زبان کا مقدمہ عدالت عظمی میں لے کر جانے والے وکیل سکندر جاوید نے جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی طرف سے قومی زبان کے نفاذ کے لئے کوشش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ہوا ہے کہ قومی زبان کے لئے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا ورنہ کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود اور ان کے ساتھی ججوں نے آئینی اور قومی ضرورت کو سامنے رکھ کر قومی زبان کے نفاذ کا فیصلہ سنایا ہے اور اب یہ قوم کا فرض ہے کہ وہ اردو کے نفاذ پر عملدرآمد کے لئے حکمرانوں کو مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد لوگ اس کے عملی نفاذ کے لئے اعلی عدالتوں میں قومی زبان اردو میں درخواستیں دیں۔ سکندر جاوید ایڈووکیٹ نے اس سلسلے میں اپنی خدمات بالکل مفت مہیا کرنے کی پیشکش بھی کی۔
ذوالقرنین جمیل (پسر جمیل الدین عالی مرحوم) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد مرحوم نے جنونی حد تک اردو کے لئے اپنی خدمات سرانجام دی ہیں انہوں نے پاکستان رائٹرز گلڈ میں اور میں نے انجمن ترقی اردو میں خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیشمار بیوروکریٹس نے اردو زبان کے لئے خدمات سرانجام دی ہیں۔ انجمن ترقی اردو قومی زبان کی ترقی کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے جنہیں سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن اور چینی باشندے بھی اردو میں باتیں کر کے خوش ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو صوبائیت کی بجائے پاکستانی قوم کی حیثیت میں سوچنا اور عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے حاضرین کو ضیاء محی الدین کی زبان میں جمیل الدین عالی مرحوم کے نام اردو سے محبت کا پیغام یو ٹیوب پر سننے کا مشورہ بھی دیا۔ پروگرام کے آخر میں شیلڈز پیش کیں۔ قومی زبان تحریک کے پروگراموں میں انتظامی امور سرانجام دینے پر نوجوان ساتھیوں کو اعزازی اسناد پیش کی گئیں۔ وائس ایڈمرل جاوید اقبال کی دعا کے بعد پروگرام اختتام پذیر ہوا۔اس عظیم قومی اجتماع میں شرکت کے ملک کے طول و عرض سے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

محمد یونس عزیز
۸ستمبر ۲۰۱۷ء

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here